
محکمہ داخلہ کا امیگریشن اسٹیٹس ریزولوشن سروس (ISRS) آج 26 نومبر کو اپنی آؤٹ ریچ پروگرام کے تحت کینبرا کے کیپیکس لائبریری اور پیرا میٹا مشن کمیونٹی ہب میں واک ان کلینکس کا انعقاد کر رہا ہے۔ اہلکار ان افراد کو فوری ملاقاتیں فراہم کریں گے جن کے ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہے یا جو برجنگ ویزا ای پر پھنسے ہوئے ہیں۔
ISRS کا مقصد غیر دستاویزی مہاجرین کو حراست سے بچانے میں مدد دینا ہے، قانونی راستے، برجنگ ویزا کی توسیع اور رضاکارانہ روانگی کے آپشنز پر بات چیت کے ذریعے۔ کمیونٹی کے نمائندے کہتے ہیں کہ اسٹیٹس ریزولوشن اہلکاروں کی جسمانی موجودگی، کال سینٹر کی دور دراز مدد کے مقابلے میں، ان مہاجرین کے لیے رکاوٹیں کم کرتی ہے جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں یا جو رسمی انٹرویو کے ماحول سے خوفزدہ ہیں۔
تعمیرات اور ہاسپیٹالٹی کے شعبے، جہاں اکثر غیر مستحکم ویزوں پر کام کرنے والے ملازمین ہوتے ہیں، کے آجران کو یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ بغیر کام کے حقوق کے کسی کو ملازمت دینا سول اور فوجداری جرمانوں کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ واک ان کلینکس متاثرہ افراد کو اپنے اسٹیٹس کو قانونی شکل دینے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جس سے کاروباروں کے لیے تعمیل کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
ACT اور نیو ساؤتھ ویلز کے سیشنز کے بعد، یہ موبائل سروس دسمبر میں دیگر شہری لائبریریوں میں بھی جائے گی۔ متعلقہ فریقین اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ایسے پروگرامز کو دیہی علاقوں تک بھی بڑھانا چاہیے جہاں غیر دستاویزی زرعی مزدور اکثر رہتے ہیں۔
افراد کو ملاقات کے لیے پیشگی وقت لینے کی ضرورت نہیں؛ مترجمین درخواست پر دستیاب ہیں۔ ISRS کہتا ہے کہ سیشنز کے دوران کوئی نفاذی کارروائی نہیں کی جائے گی اور فراہم کی گئی معلومات رازدارانہ رکھی جائیں گی جب تک کہ سنگین جرائم کا انکشاف نہ ہو۔
ISRS کا مقصد غیر دستاویزی مہاجرین کو حراست سے بچانے میں مدد دینا ہے، قانونی راستے، برجنگ ویزا کی توسیع اور رضاکارانہ روانگی کے آپشنز پر بات چیت کے ذریعے۔ کمیونٹی کے نمائندے کہتے ہیں کہ اسٹیٹس ریزولوشن اہلکاروں کی جسمانی موجودگی، کال سینٹر کی دور دراز مدد کے مقابلے میں، ان مہاجرین کے لیے رکاوٹیں کم کرتی ہے جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں یا جو رسمی انٹرویو کے ماحول سے خوفزدہ ہیں۔
تعمیرات اور ہاسپیٹالٹی کے شعبے، جہاں اکثر غیر مستحکم ویزوں پر کام کرنے والے ملازمین ہوتے ہیں، کے آجران کو یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ بغیر کام کے حقوق کے کسی کو ملازمت دینا سول اور فوجداری جرمانوں کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ واک ان کلینکس متاثرہ افراد کو اپنے اسٹیٹس کو قانونی شکل دینے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جس سے کاروباروں کے لیے تعمیل کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
ACT اور نیو ساؤتھ ویلز کے سیشنز کے بعد، یہ موبائل سروس دسمبر میں دیگر شہری لائبریریوں میں بھی جائے گی۔ متعلقہ فریقین اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ایسے پروگرامز کو دیہی علاقوں تک بھی بڑھانا چاہیے جہاں غیر دستاویزی زرعی مزدور اکثر رہتے ہیں۔
افراد کو ملاقات کے لیے پیشگی وقت لینے کی ضرورت نہیں؛ مترجمین درخواست پر دستیاب ہیں۔ ISRS کہتا ہے کہ سیشنز کے دوران کوئی نفاذی کارروائی نہیں کی جائے گی اور فراہم کی گئی معلومات رازدارانہ رکھی جائیں گی جب تک کہ سنگین جرائم کا انکشاف نہ ہو۔