
بھارت کی وزارت خارجہ نے 8 دسمبر کو چین کے ہوائی اڈوں سے گزرنے والے بھارتی شہریوں کی بلاوجہ حراست نہ کیے جانے کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ 21 نومبر کو شنگھائی پودونگ ہوائی اڈے پر ایک برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری کو 18 گھنٹے تک روکا گیا تھا۔ حکام کے مطابق سرحدی عملے نے اس کا پاسپورٹ "غیر معتبر" قرار دیا کیونکہ وہ آسام کے متنازعہ علاقے اروناچل پردیش میں پیدا ہوئی تھی، جسے چین زانگنان کہتا ہے۔
اس واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج کیا اور چین کے راستے سفر کرنے والے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کیں۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کو بتایا کہ اس قسم کے اقدامات "دو طرفہ تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں" اور بیجنگ سے بین الاقوامی ٹرانزٹ قوانین کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔ چین نے اس معاملے پر صرف اتنا کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر چیکنگ ملکی قوانین کے مطابق کی جاتی ہے۔
ماہرانِ سفر کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ پوائنٹس پر منتخب جانچ پڑتال ایئر لائنز اور سفر کے منتظمین کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے۔ چین کے لیے سفر کرنے والی بھارتی کمپنیوں نے ہانگ کانگ، بنکاک یا سنگاپور کے راستے سفر کے متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جب تک کہ واضح ہدایات نہ مل جائیں۔
یہ واقعہ اس نازک تعلقات کے دوران پیش آیا ہے جب وزیر اعظم مودی نے اگست میں چین کا دورہ کیا اور نومبر میں چینی شہریوں کے لیے بھارت کے سیاحتی ویزے دوبارہ شروع ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سرحدی عملے کے رویے سفارتی کوششوں کے مطابق نہ ہوئے تو کاروباری اعتماد کمزور ہی رہے گا۔
اداروں کو چاہیے کہ بھارتی پاسپورٹ ہولڈرز، خاص طور پر وہ جو متنازعہ علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں، کو ممکنہ سوالات کے بارے میں آگاہ کریں اور قونصلر مدد کے لیے رابطہ نمبر اپنے ریکارڈ میں رکھیں۔
اس واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج کیا اور چین کے راستے سفر کرنے والے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کیں۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کو بتایا کہ اس قسم کے اقدامات "دو طرفہ تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں" اور بیجنگ سے بین الاقوامی ٹرانزٹ قوانین کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔ چین نے اس معاملے پر صرف اتنا کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر چیکنگ ملکی قوانین کے مطابق کی جاتی ہے۔
ماہرانِ سفر کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ پوائنٹس پر منتخب جانچ پڑتال ایئر لائنز اور سفر کے منتظمین کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے۔ چین کے لیے سفر کرنے والی بھارتی کمپنیوں نے ہانگ کانگ، بنکاک یا سنگاپور کے راستے سفر کے متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جب تک کہ واضح ہدایات نہ مل جائیں۔
یہ واقعہ اس نازک تعلقات کے دوران پیش آیا ہے جب وزیر اعظم مودی نے اگست میں چین کا دورہ کیا اور نومبر میں چینی شہریوں کے لیے بھارت کے سیاحتی ویزے دوبارہ شروع ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سرحدی عملے کے رویے سفارتی کوششوں کے مطابق نہ ہوئے تو کاروباری اعتماد کمزور ہی رہے گا۔
اداروں کو چاہیے کہ بھارتی پاسپورٹ ہولڈرز، خاص طور پر وہ جو متنازعہ علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں، کو ممکنہ سوالات کے بارے میں آگاہ کریں اور قونصلر مدد کے لیے رابطہ نمبر اپنے ریکارڈ میں رکھیں۔
ماخذ: Reuters
VisaHQ کس طرح مدد کر سکتا ہے
VisaHQ افراد اور کاروباروں کے لیے ویزا درخواست کا عمل آسان بناتا ہے۔ موجودہ سفری تقاضے دیکھیں، مطلوبہ دستاویزات تیار کریں اور چین کے لیے VisaHQ پورٹل کے ذریعے اپنی درخواست آن لائن منظم کریں۔مزید معلومات چین
تمام دیکھیں
لونگ ایئر نے شینزین سے کوچنگ کے لیے ہفتہ وار پرواز کا آغاز کر دیا، چین اور ملائیشیا کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا گیا۔
چین نے ویزوں کو آسان بنانے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔