ڈی جی سی اے نے انڈیگو سے نیا عملے کے ڈیوٹی حدود کے بعد مکمل نیٹ ورک برقرار رکھنے کا وعدہ حاصل کر لیا
بیلگاوی سے دہلی کی پروازیں 19 سے 26 جنوری تک معطل، یوم جمہوریہ کے دوران فضائی حدود پر پابندیاں نافذ
کویت نے ڈیجیٹل ملٹی ٹرپ ایگزٹ پرمٹ متعارف کروا دیا، بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے علاقائی سفر آسان ہو گیا
تازہ ترین خبریں
ہنلی 2026 میں بھارت کے پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری، مگر دو ویزا فری مقامات کا نقصان
بھارت کا پاسپورٹ اب دنیا میں 80 ویں نمبر پر ہے، لیکن ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت صرف 55 مقامات تک محدود ہو گئی ہے کیونکہ ایران اور بولیویا نے قواعد سخت کر دیے ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ سے بھارتی کاروباری اداروں کو دو اہم مارکیٹوں کے لیے پہلے سے ویزے حاصل کرنا پڑیں گے، جس سے سفر کے اخراجات اور وقت میں اضافہ ہو گا۔ موبلٹی ٹیموں کو نئی ضروریات کے مطابق سفر کی ہدایات اور بجٹ میں تبدیلی کرنی ہوگی۔
سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال کی وجہ سے امریکی ویزا انکار میں بھارتیوں کی تعداد میں اضافہ
بھارت میں امریکی قونصل خانے 221(g) عارضی انکار کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں، جو لازمی سوشل میڈیا جائزوں اور گہرے پس منظر کی جانچ کی وجہ سے ہے۔ اچھی دستاویزات کے حامل H-1B اور طالب علم درخواست دہندگان کو بھی مہینوں کی تاخیر کا سامنا ہے، جس سے بھارتی آئی ٹی اور انجینئرنگ کمپنیوں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں جو تیز رفتار عملے کی تبدیلی پر انحصار کرتی ہیں۔ آجران کو چاہیے کہ وہ آن لائن پروفائلز کی پیشگی جانچ کریں اور طویل انتظار کے لیے منصوبہ بندی کریں۔
نیوزی لینڈ نے ایک ملین ویزوں کا ریکارڈ قائم کر لیا؛ تیز تر پروسیسنگ بھارتی طلبہ اور مزدوروں کے لیے خوشخبری
نيوزيلینڈ کی امیگریشن نے 2025 میں ایک ملین ویزے ریکارڈ تعداد میں جاری کیے اور وزیٹر، طالب علم اور ورک ویزوں کی پروسیسنگ کے اوقات میں نمایاں کمی کی۔ تیز رفتار کارروائی اور نئے ویزا پروگرام 2026 میں بھارتی طلبہ، موسمی مزدوروں اور سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند ہیں جو نیوزی لینڈ کا رخ کر رہے ہیں۔
برطانیہ نے طلباء کی تعداد کے ہدف ختم کر دیے، بیرون ملک کیمپسز پر توجہ مرکوز—بھارتی درخواست دہندگان کے لیے اثرات
برطانیہ کی نئی تعلیمی حکمت عملی میں بین الاقوامی داخلوں کے لیے عددی اہداف ختم کر دیے گئے ہیں اور یونیورسٹیوں کو بیرون ملک توسیع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ بھارتی طلبہ کو برطانوی کیمپس میں داخلے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن انہیں بھارت یا علاقائی مراکز میں فراہم کیے جانے والے برطانوی ڈگری پروگراموں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔