
22 جولائی کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے عالمی سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری کیا ہے، جس میں امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نوٹس میں اچانک فضائی حدود کی بندش، ایئر لائن شیڈول میں تبدیلیوں اور ایران یا اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے خطرات کا ذکر ہے۔ اگرچہ عالمی وارننگ کئی سالوں سے جاری ہے، لیکن اس تازہ کاری سے موجودہ صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے: امریکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس خطے سے گزرنے والے سفر کے منصوبے دوبارہ سوچیں اور اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام (STEP) میں شامل ہوں تاکہ فوری اپ ڈیٹس حاصل کر سکیں۔
یہ مشورہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے کاروباری عمل پر پڑنے والے اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جن کے ملازمین متحرک ہیں۔ سفر کے منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے راستے منتخب کریں جو خطرناک مراکز سے بچیں، جنگی خطرے کی انشورنس کا جائزہ لیتے رہیں، اور ملازمین کو ہنگامی نکاسی یا دور دراز کام کرنے کے منصوبوں سے آگاہ کریں اگر سرحدیں بند ہو جائیں۔ ایئر لائنز نے پہلے ہی خلیج اور لیوانٹ کے اہم ہوائی اڈوں کے لیے پروازوں کی تعداد کم کر دی ہے۔ خطے سے باہر کی ایئر لائنز کو بھی طویل فاصلے کی پروازوں میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ متنازعہ فضائی حدود سے بچنے کے لیے راستے تبدیل کر رہی ہیں، جس سے وقت اور ایندھن کے اخراجات بڑھیں گے۔ آجران کو آخری لمحے میں ٹکٹ کی تبدیلی اور زیادہ کرایوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
الرٹ میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکی سفارت خانے خود بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے قونصلر خدمات جیسے ہنگامی پاسپورٹ جاری کرنا محدود ہو سکتا ہے۔ وہ کمپنیاں جن کے پاس غیر ملکی عملہ ہے، انہیں چاہیے کہ مقامی ایچ آر کے پاس متعدد رابطے کے ذرائع ہوں—سیٹلائٹ فونز، محفوظ ایپس—اور ملازمین کے پاس امیگریشن دستاویزات کی نقول موجود ہوں تاکہ اگر انہیں کسی تیسرے ملک کے ہوائی اڈے سے راستہ بدلنا پڑے تو وہ آسانی سے نکل سکیں۔
اگرچہ یہ مشورہ عالمی نوعیت کا ہے، لیکن اس کا عملی اثر خاص طور پر ان افراد پر محسوس کیا جائے گا جو آنے والے ہفتوں میں بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں سفر یا کام کرنے والے ہیں۔ موبلٹی ٹیموں کو چاہیے کہ وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے الرٹس اور ایئر لائنز کے آپریشنل نوٹس روزانہ مانیٹر کریں جب تک کشیدگی کم نہ ہو جائے۔
یہ مشورہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے کاروباری عمل پر پڑنے والے اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جن کے ملازمین متحرک ہیں۔ سفر کے منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے راستے منتخب کریں جو خطرناک مراکز سے بچیں، جنگی خطرے کی انشورنس کا جائزہ لیتے رہیں، اور ملازمین کو ہنگامی نکاسی یا دور دراز کام کرنے کے منصوبوں سے آگاہ کریں اگر سرحدیں بند ہو جائیں۔ ایئر لائنز نے پہلے ہی خلیج اور لیوانٹ کے اہم ہوائی اڈوں کے لیے پروازوں کی تعداد کم کر دی ہے۔ خطے سے باہر کی ایئر لائنز کو بھی طویل فاصلے کی پروازوں میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ متنازعہ فضائی حدود سے بچنے کے لیے راستے تبدیل کر رہی ہیں، جس سے وقت اور ایندھن کے اخراجات بڑھیں گے۔ آجران کو آخری لمحے میں ٹکٹ کی تبدیلی اور زیادہ کرایوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
الرٹ میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکی سفارت خانے خود بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے قونصلر خدمات جیسے ہنگامی پاسپورٹ جاری کرنا محدود ہو سکتا ہے۔ وہ کمپنیاں جن کے پاس غیر ملکی عملہ ہے، انہیں چاہیے کہ مقامی ایچ آر کے پاس متعدد رابطے کے ذرائع ہوں—سیٹلائٹ فونز، محفوظ ایپس—اور ملازمین کے پاس امیگریشن دستاویزات کی نقول موجود ہوں تاکہ اگر انہیں کسی تیسرے ملک کے ہوائی اڈے سے راستہ بدلنا پڑے تو وہ آسانی سے نکل سکیں۔
اگرچہ یہ مشورہ عالمی نوعیت کا ہے، لیکن اس کا عملی اثر خاص طور پر ان افراد پر محسوس کیا جائے گا جو آنے والے ہفتوں میں بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں سفر یا کام کرنے والے ہیں۔ موبلٹی ٹیموں کو چاہیے کہ وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے الرٹس اور ایئر لائنز کے آپریشنل نوٹس روزانہ مانیٹر کریں جب تک کشیدگی کم نہ ہو جائے۔