
28 جولائی کو ہونے والی معمول کی پریس کانفرنس میں، وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بتایا کہ 2026 کے پہلے نصف سال میں چین آنے والے غیر ملکی زائرین میں سے 77.7 فیصد نے ویزا فری سہولت کا فائدہ اٹھایا۔ بیجنگ ڈیلی کے سوال کے جواب میں، لن نے خاص طور پر یورپی سیاحوں کی اس موسم گرما میں چین کی طرف بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا، جو الیکٹرک گاڑیوں کی نمائش، عارضی "گواچاؤ" اسٹورز اور تاریخی سیاحتی مقامات کا تجربہ کرنے آئے ہیں۔ لن نے اس ڈیٹا کو چین کی "اعلیٰ سطح کی کھلے پن" کی پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا، جو عالمی سیاحوں میں مقبول ہو رہی ہے اور حکومت کے ثقافتی نرم طاقت اور اقتصادی ترقی کے اہداف کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام "مزید غیر ملکی دوستوں کو چین کے گرم اور جاندار موسم کا قریب سے تجربہ کرنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔" اگرچہ یہ بیان نئی قواعد نہیں لاتا، لیکن یہ ایک اہم پالیسی اشارہ ہے کہ بیجنگ ویزا فری پروگرام کو اپنی اقتصادی بحالی کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ سمجھتا ہے اور اس میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ کمپنیوں کی موبلٹی ٹیموں کے لیے یہ بیان یقین دہانی فراہم کرتا ہے کہ ملازمین کی سفر، پروجیکٹ کی تعیناتی اور کلائنٹ وزٹس 30 دن کی ویزا فری قیام کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے کاغذی کارروائی اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔ عملی مشورہ: مسافروں کو اب بھی اپنی اگلی منزل کا ثبوت ساتھ رکھنا ہوگا اور 24 گھنٹوں کے اندر مقامی پولیس یا ہوٹل کے ذریعے اپنا پتہ رجسٹر کروانا ہوگا۔ ایچ آر ڈیپارٹمنٹس کو چاہیے کہ وہ عملے کو یاد دلائیں کہ ویزا فری داخلے کے باوجود قیام کی مدت سے تجاوز یا غیر مجاز کام پر جرمانے اور ممکنہ داخلے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔