
2 فروری کو رات 12:01 بجے کے بعد بھارت پہنچنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے کسٹمز کا نظام بدل چکا ہے۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت نوٹیفائی کیے گئے اور 1 فروری کی رات گزیٹ میں شائع ہونے والے بیگیج رولز 2026 نے گزشتہ دہائی میں جمع شدہ مختلف سرکلرز کی جگہ لے لی ہے۔
سب سے بڑا تبدیلی عام ڈیوٹی فری الاؤنس میں اضافہ ہے—بھارتی رہائشیوں، اوورسیز سٹیزنز آف انڈیا (OCI) اور دیگر غیر سیاحتی ویزہ ہولڈرز کے لیے جو ہوائی یا سمندری راستے سے آتے ہیں، یہ حد ₹50,000 سے بڑھ کر ₹75,000 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے اب ₹25,000 کی زیادہ چھوٹ ہے، جبکہ ایئر لائن عملے کے لیے الاؤنس معمولی طور پر ₹2,500 تک بڑھایا گیا ہے۔
زیورات کی حدوں کو وزن کی بنیاد پر منظم کیا گیا ہے نہ کہ قیمت کے حساب سے: ایک سال یا اس سے زیادہ بیرون ملک رہنے والی خواتین اب 40 گرام سونا بغیر ڈیوٹی لائے لا سکتی ہیں؛ باقی تمام مسافروں کے لیے حد 20 گرام مقرر کی گئی ہے۔ کسٹمز انسپکٹرز نے طویل عرصے سے سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے نفاذ میں مشکلات کا اظہار کیا تھا؛ نیا قانون واضح حد فراہم کرتا ہے۔
نئے قواعد میں ‘ٹرانسفر آف ریزیڈنس’ اسکیم کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔ دو سال سے زیادہ بیرون ملک رہنے والے واپس آنے والے بھارتی شہری اب ذاتی اور گھریلو سامان کی مالیت ₹7.5 لاکھ تک بغیر ڈیوٹی کے لانے کے اہل ہوں گے، جو ملٹی نیشنل ملازمین کے لیے واپسی کے اخراجات کو کم کرے گا۔
شاید سب سے اہم تبدیلی طریقہ کار میں ہے: آنے والے مسافروں کو اب کاغذی فارم بھرنے کی بجائے بھارت کے ‘ایئر سوویدھا’ پلیٹ فارم پر ایک واحد ڈیجیٹل کسٹمز ڈیکلریشن مکمل کرنا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے بڑے ہوائی اڈوں پر اوسط کلیئرنس وقت میں 30 فیصد کمی آئے گی، جو 2028 تک سالانہ 350 ملین مسافروں کے ہدف کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
سب سے بڑا تبدیلی عام ڈیوٹی فری الاؤنس میں اضافہ ہے—بھارتی رہائشیوں، اوورسیز سٹیزنز آف انڈیا (OCI) اور دیگر غیر سیاحتی ویزہ ہولڈرز کے لیے جو ہوائی یا سمندری راستے سے آتے ہیں، یہ حد ₹50,000 سے بڑھ کر ₹75,000 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے اب ₹25,000 کی زیادہ چھوٹ ہے، جبکہ ایئر لائن عملے کے لیے الاؤنس معمولی طور پر ₹2,500 تک بڑھایا گیا ہے۔
زیورات کی حدوں کو وزن کی بنیاد پر منظم کیا گیا ہے نہ کہ قیمت کے حساب سے: ایک سال یا اس سے زیادہ بیرون ملک رہنے والی خواتین اب 40 گرام سونا بغیر ڈیوٹی لائے لا سکتی ہیں؛ باقی تمام مسافروں کے لیے حد 20 گرام مقرر کی گئی ہے۔ کسٹمز انسپکٹرز نے طویل عرصے سے سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے نفاذ میں مشکلات کا اظہار کیا تھا؛ نیا قانون واضح حد فراہم کرتا ہے۔
نئے قواعد میں ‘ٹرانسفر آف ریزیڈنس’ اسکیم کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔ دو سال سے زیادہ بیرون ملک رہنے والے واپس آنے والے بھارتی شہری اب ذاتی اور گھریلو سامان کی مالیت ₹7.5 لاکھ تک بغیر ڈیوٹی کے لانے کے اہل ہوں گے، جو ملٹی نیشنل ملازمین کے لیے واپسی کے اخراجات کو کم کرے گا۔
شاید سب سے اہم تبدیلی طریقہ کار میں ہے: آنے والے مسافروں کو اب کاغذی فارم بھرنے کی بجائے بھارت کے ‘ایئر سوویدھا’ پلیٹ فارم پر ایک واحد ڈیجیٹل کسٹمز ڈیکلریشن مکمل کرنا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے بڑے ہوائی اڈوں پر اوسط کلیئرنس وقت میں 30 فیصد کمی آئے گی، جو 2028 تک سالانہ 350 ملین مسافروں کے ہدف کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ماخذ: NDTV Travel