
چینی آن لائن ٹریول ایجنسیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، آئندہ یکم سے پانچ مئی تک جاری رہنے والا "گولڈن ویک" لیبر ڈے کی تعطیلات میں 2019 کے بعد سب سے زیادہ بین الاقوامی رنگ لے کر آئے گا۔ گلوبل ٹائمز کے 23 اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق، اندرون ملک سفر کی تلاش میں ماہ بہ ماہ 364 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ اور رہائش کی بکنگ میں سال بہ سال تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ویزا فری پالیسی جو 50 ممالک کو دی گئی ہے اور براہ راست پروازوں کی بحالی اس بڑھتی ہوئی طلب کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ٹونگ چنگ ٹریول کے مطابق جنوبی کوریا، مصر، روس، اٹلی اور برطانیہ سب سے بڑے ماخذ ممالک میں شامل ہیں؛ جنوبی کوریا سے چین کے لیے ججو کی پروازوں کی بکنگ میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 150 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ہوائی جہازوں کی کمی کی وجہ سے کچھ طویل فاصلے کی پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، جس سے چینی سیاحوں کی توجہ ملکی "تجربہ بھرے" سفر کی طرف مڑ رہی ہے۔ کارپوریٹ موبلٹی مینیجرز کے لیے یہ اعداد و شمار مئی کے پہلے ہفتے میں سیٹ اور ہوٹل کی قلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شنگھائی میں تجارتی میلوں میں شرکت کرنے والے یا گریٹر بے ایریا میں سائٹ وزٹ کرنے والے ایگزیکٹوز کو فوری طور پر ریفنڈ ایبل کرایے بک کرانے چاہئیں اور ہوٹل کے بڑھتے ہوئے کرایوں کے لیے بجٹ رکھنا چاہیے۔ چنگدو یا گویلن جیسے سیاحتی مقامات پر اندرونی کانفرنسز کی میزبانی کرنے والی کمپنیوں کو یومیہ الاؤنس بڑھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ تعطیلات کے دوران پریمیم ہوٹل کیٹگریز میں 90 فیصد بکنگ ہو چکی ہے۔
پالیسی کے حوالے سے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بیجنگ کی تدریجی کھولنے کی حکمت عملی کی تصدیق کرتا ہے: یکطرفہ 30 دن کی ویزا فری انٹری، 65 بندرگاہوں پر 240 گھنٹے کا ٹرانزٹ وائیور، اور مکمل ڈیجیٹل آمد کارڈز۔ سرمایہ کار دوسرے سہ ماہی کے سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اعداد و شمار پر نظر رکھیں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا یہ اضافہ مستقل صارف خرچ میں تبدیل ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر اندرون ملک آمدنی میں تیزی آئے تو حکام ممکنہ طور پر 60 دن کی ویزا فری رہائش کے پائلٹ پروگرامز کو تیز کریں گے جو تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں کے سرمایہ کاروں کو دیے جائیں گے اور بار بار مختصر کاروباری دوروں کے لیے 30 دن کی دوبارہ داخلے کی پابندی ختم کر دی جائے گی۔
دوسری جانب، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ہوائی جہازوں کی کمی کی وجہ سے کچھ طویل فاصلے کی پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، جس سے چینی سیاحوں کی توجہ ملکی "تجربہ بھرے" سفر کی طرف مڑ رہی ہے۔ کارپوریٹ موبلٹی مینیجرز کے لیے یہ اعداد و شمار مئی کے پہلے ہفتے میں سیٹ اور ہوٹل کی قلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شنگھائی میں تجارتی میلوں میں شرکت کرنے والے یا گریٹر بے ایریا میں سائٹ وزٹ کرنے والے ایگزیکٹوز کو فوری طور پر ریفنڈ ایبل کرایے بک کرانے چاہئیں اور ہوٹل کے بڑھتے ہوئے کرایوں کے لیے بجٹ رکھنا چاہیے۔ چنگدو یا گویلن جیسے سیاحتی مقامات پر اندرونی کانفرنسز کی میزبانی کرنے والی کمپنیوں کو یومیہ الاؤنس بڑھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ تعطیلات کے دوران پریمیم ہوٹل کیٹگریز میں 90 فیصد بکنگ ہو چکی ہے۔
پالیسی کے حوالے سے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بیجنگ کی تدریجی کھولنے کی حکمت عملی کی تصدیق کرتا ہے: یکطرفہ 30 دن کی ویزا فری انٹری، 65 بندرگاہوں پر 240 گھنٹے کا ٹرانزٹ وائیور، اور مکمل ڈیجیٹل آمد کارڈز۔ سرمایہ کار دوسرے سہ ماہی کے سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اعداد و شمار پر نظر رکھیں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا یہ اضافہ مستقل صارف خرچ میں تبدیل ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر اندرون ملک آمدنی میں تیزی آئے تو حکام ممکنہ طور پر 60 دن کی ویزا فری رہائش کے پائلٹ پروگرامز کو تیز کریں گے جو تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں کے سرمایہ کاروں کو دیے جائیں گے اور بار بار مختصر کاروباری دوروں کے لیے 30 دن کی دوبارہ داخلے کی پابندی ختم کر دی جائے گی۔