
مڈل ایسٹ کے وزیر ہی مش فالکنر نے اسلام آباد کے دو روزہ دورے کے دوران جنوبی ایشیا سے برطانیہ کی طرف غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے 8 ملین پاؤنڈ کے نئے پیکیج کا اعلان کیا۔ 16 جون 2026 کو کیے گئے اس اعلان کے تحت پاکستانی سرحدی کنٹرول ٹیکنالوجی کو مضبوط بنایا جائے گا، انسانی اسمگلنگ گروہوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی حمایت کی جائے گی اور برطانوی حکام کے ساتھ شناختی ڈیٹا کا تبادلہ بہتر بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پہلے سے موجود ایئرپورٹ رابطہ پروگرامز کی بنیاد پر ہے، جن میں برطانیہ کی مالی معاونت سے اہلکار مسافروں کی روانگی سے پہلے اسکریننگ کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں تقریباً 12,000 غیر قانونی مسافروں کو روکا گیا، جس سے پناہ گزینی کے عمل کے بعد کے اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی۔ نئے فنڈز سے پرواز سے پہلے دستاویزات کی تصدیق کرنے والی ٹیموں کو بڑھایا جائے گا اور ان علاقوں میں کمیونٹی پروگرامز کی مالی معاونت کی جائے گی جہاں بھرتی کرنے والے ممکنہ مہاجرین کو نشانہ بناتے ہیں۔ برطانوی ملازمت دہندگان کے لیے یہ قدم ویزا کے غلط استعمال کو روکنے پر زیادہ توجہ دینے کی نشاندہی کرتا ہے، نہ کہ صرف ملکی قوانین کو سخت کرنے پر۔ اسپانسر کرنے والی کمپنیوں کو پاکستانی درخواست دہندگان کے دستاویزات اور مالی ذرائع کی جانچ میں سختی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ دورہ برطانیہ کی ترقیاتی فنڈز کو ہجرت کے انتظام کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو آنے والے سالوں میں دیگر ممالک میں بھی اپنائی جا سکتی ہے۔