
جرمنی کے وفاقی دفتر خارجہ (AA) نے 25 ستمبر کو سعودی عرب کے لیے اپنے سفری اور حفاظتی مشورے کو تازہ کیا ہے، جس میں جزوی وارننگ برقرار رکھی گئی ہے لیکن یمن کے پڑوسی ملک میں جاری تنازع سے منسلک ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے پر نئی زبان شامل کی گئی ہے۔ اس نوٹس میں خاص طور پر مشرقی صوبہ اور یمنی سرحد کے قریب علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ کاروباری مراکز جیسے ریاض، جدہ اور نیوم تعمیراتی زون کو "زیادہ احتیاط برتنے" کی درجہ بندی دی گئی ہے، AA مسافروں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے ELEFAND بحران ٹریکر میں رجسٹر ہوں اور ہوٹل کے حفاظتی مقامات کو ذہن میں رکھیں۔ اگر ریاض ایئرپورٹ میزائل دفاعی بندش پروٹوکول کو فعال کرتا ہے، جو آخری بار جون 2026 میں ہوا تھا، تو اچانک پروازوں کی تبدیلی ممکن ہے۔ اپ ڈیٹ میں داخلے کی صحت کی ضروریات کی وضاحت بھی کی گئی ہے: یکم اکتوبر سے، ان مسافروں کے لیے پولیو ویکسینیشن کا ثبوت لازمی ہوگا جو کچھ افریقی ممالک میں چار ہفتے سے زیادہ قیام کر چکے ہوں—یہ تفصیل متعدد ممالک کے کاروباری سفر کے منصوبوں کو حیران کر سکتی ہے۔ جرمن کمپنیوں کو جو سعودی عرب میں پروجیکٹ اسٹاف رکھتی ہیں، چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں، 4G کوریج سے باہر سیٹلائٹ فون کی بیک اپ سہولت یقینی بنائیں اور یہ تصدیق کریں کہ انشورنس میں صرف سیاسی بدامنی نہیں بلکہ *مسلح تصادم* کے حالات بھی شامل ہوں۔ عدم تعمیل کی صورت میں کمپنیوں کو جرمنی کے نئے سپلائی چین ڈیوشیجنس ایکٹ کے تحت قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں بیرون ملک کارکنوں کی حفاظت بھی شامل ہے۔ AA کا اگلا جائزہ دو ہفتوں میں متوقع ہے، لیکن حکام خبردار کرتے ہیں کہ "حفاظتی صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے" اور تمام اطلاعات Sicher Reisen موبائل ایپ کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
ماخذ: Auswärtiges Amt