
برلن، 26 جولائی 2026: منگولیا کے لیے تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے اپنی 15 روزہ ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی کو ٹرانس-منگولین ریلوے کے ذریعے بیجنگ جانے والے مسافروں تک بڑھا دیا ہے۔ اب جرمن کاروباری مسافر شمالی چین میں ویزا کے بغیر مختصر قیام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے آگے کے سفر کے ٹکٹ تصدیق شدہ ہوں۔ اس تبدیلی سے جرمن کان کنی اور لاجسٹکس کمپنیوں کے لیے اولان باتر اور شنگھائی یا شینزین میں ہیڈکوارٹرز کے درمیان سفر کے نئے راستے کھل گئے ہیں، جس سے سفر کے اخراجات میں تقریباً 20 فیصد کمی ممکن ہے۔ تاہم، جرمن وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ مسافروں کو مخصوص ٹرانزٹ زونز میں رہنا ہوگا اور ہوائی کمپنیوں کی جانب سے ہوٹل کی بکنگ کا ثبوت طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اولان باتر کی نئی الیکٹرک بس سروس میں جیب کتروں کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور سردیوں کے سموگ کی وجہ سے ہیلکاپٹر کے ذریعے طبی ایمرجنسیز میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اویو تولگوی اور تاوان تولگوی کانوں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے چین کے ٹرانزٹ آپشن کو سفر کی پالیسیوں میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، لیکن غیر متوقع سرحدی بندشوں کے لیے منگولیا کے ملٹی انٹری ویزے بھی برقرار رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر مویشیوں کی بیماریوں کی صورت میں۔ جرمن ایچ آر ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملازمین کو منگولیا کی ای-ریزیڈنس پرمٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کروائیں، جو اب جرمن زبان میں دستیاب ہے اور آمد پر پولیس رجسٹریشن کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
ماخذ: Auswärtiges Amt