
سرکاری پورٹل granica.gov.pl پر رات بھر کی تازہ کاری میں بتایا گیا ہے کہ پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر واقع چھوٹے چیک پوسٹس Połowce اور Sławatycze پر مسافروں اور مال برداری کی نقل و حرکت ابھی بھی معطل ہے۔ اگرچہ اہم مال برداری کا راستہ Koroszczyn–Kukuryki کھلا ہے، لیکن اپریل میں لگائی گئی بندشیں 23 اکتوبر کی 00:56 کی بلیٹن میں دوبارہ تصدیق کی گئی ہیں۔ پولینڈ نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا جب انٹیلی جنس نے ہائبرڈ سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی، جن میں بیلاروسی ایجنسیوں کی جانب سے مہاجرین کی اسمگلنگ کی کوششیں شامل تھیں۔ اس فیصلے کے تحت ٹریفک کو Kuźnica-Bruzgi اور Bobrowniki کی طرف موڑ دیا گیا ہے، جس سے وہاں انتظار کے اوقات بڑھ گئے ہیں، لیکن سرحدی گارڈ کو وسائل مرکوز کرنے اور مضبوط باڑ اور نگرانی تعینات کرنے میں مدد ملی ہے۔ جو ٹور آپریٹرز Białowieża جنگل کے دورے کراتے ہیں اور Podlaskie صوبے کے پولش رہائشی جو Brest اور Hrodna میں باقاعدگی سے خریداری کرتے ہیں، ان کے لیے یہ بندش طویل راستوں کا سبب بنی ہے، جو Terespol یا Kuźnica کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کھلے چیک پوائنٹس کی مجموعی صلاحیت موجودہ حجم کے لیے کافی ہے، لیکن خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یوکرین سے اناج کی برآمدات کا رخ شمال کی طرف بڑھا تو صورتحال سخت ہو سکتی ہے۔ بیلاروس میں سپلائرز رکھنے والے کاروباروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ CMR وے بلز میں متبادل راستے کی وضاحت کریں اور ڈرائیورز کو Koroszczyn پر جدید ای-قطار رجسٹریشن کے تقاضوں سے آگاہ کریں۔ Połowce یا Sławatycze کے دوبارہ کھلنے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی؛ حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطرے کی سطح کا ہفتہ وار جائزہ لیتے ہیں۔
ماخذ: granica.gov.pl