پولینڈ نے یورپی یونین کے بایومیٹرک داخلہ/خروج نظام کو 38 چیک پوائنٹس پر فعال کر دیا ہے۔
وارسا کے قریب ریلوے کی توڑ پھوڑ سے سفری افراتفری اور سیکیورٹی سختی شروع ہوگئی
پولینڈ کے آجر 2026 کے لیے تیار، غیر ملکی مزدوروں کے قوانین میں سختی متوقع
تازہ ترین خبریں
پولینڈ نے یورپی یونین کے داخلے/خروج کے نظام کو 38 چیک پوائنٹس پر فعال کر دیا ہے۔
پولینڈ نے 21 نومبر کو یورپی یونین کے بایومیٹرک انٹری/ایگزٹ سسٹم کو 38 سرحدی چیک پوسٹس پر متعارف کروا دیا ہے، جہاں اب غیر یورپی مسافروں کے پاسپورٹ پر دستی مہر کی بجائے ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ یہ نظام بار بار سفر کرنے والوں کے لیے قطاریں کم کرنے اور غیر قانونی قیام کی فوری اطلاع دینے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن پہلی بار آنے والوں کو زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ پورے ملک میں یہ نظام 4 دسمبر تک 178 چیک پوسٹس پر نافذ کر دیا جائے گا، جو ETIAS کے نفاذ کی راہ ہموار کرے گا اور حالیہ ہائبرڈ حملوں کے بعد پولینڈ کی سیکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ریل کی توڑ پھوڑ، سیکیورٹی سخت اور سفر میں خلل
وارسا-لوبلن ریلوے پر دھماکہ خیز حملے نے 36 گھنٹوں کے لیے مسافر اور مال بردار خدمات معطل کر دیں، جس سے ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور کاروباری سفر کے شیڈولز اور سپلائی چینز متاثر ہوئیں۔ حکام نے اس حملے کا الزام روسی ایجنٹس پر عائد کیا ہے اور سفارتکاروں کے لیے شینگن قوانین کو سخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔