
چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن (NIA) کا اندازہ ہے کہ 17 فروری سے شروع ہونے والی نو روزہ بہار کے تہوار کی تعطیلات کے دوران روزانہ 2.05 ملین سے زائد آمد و رفت ہوگی۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے اور سرحدوں کے مکمل کھلنے کے بعد سب سے زیادہ چینی نئے سال کی سفری مصروفیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
حکام اس اضافے کی وجہ 45 ممالک پر مشتمل ویزا معافی کی فہرست میں توسیع، 65 داخلہ پوائنٹس پر 240 گھنٹے کے ٹرانزٹ ویزا پروگرام، اور بیرون ملک سے آنے والے خریداروں کو راغب کرنے کے لیے گھریلو "صارفین کی ترغیبات" کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اضافی اہلکار تعینات کرنے، مزید انسپیکشن کاؤنٹرز کھولنے اور بڑے ہوائی اڈوں اور زمینی راستوں پر ای-گیٹس چوبیس گھنٹے چلانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ رش اور تاخیر سے بچا جا سکے۔
کاروباری حلقوں کے لیے یہ پیش گوئی نہ صرف ہوائی اڈوں کی بھیڑ کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ذاتی ملاقاتوں، تجارتی میلوں میں شرکت اور تین سال قبل ناممکن رہنے والے کاموں کے آغاز کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ سفر کے منتظمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر کے شیڈول میں اضافی وقت رکھیں، عملے کو "چائنا امیگریشن" منی پروگرام پر صحت کے اعلان کی پیشگی رجسٹریشن کی یاد دہانی کرائیں، اور ایئر لائنز کی جانب سے اضافی گنجائش کے باعث اچانک پروازوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔
NIA کے نوٹس میں مختلف اوقات پر رش کی نشاندہی بھی کی گئی ہے: باہر جانے والے مسافروں کا رش تعطیلات کے پہلے دن (اتوار 17 فروری) کو عروج پر ہوگا، جبکہ واپس آنے والوں کی تعداد 22-23 فروری کو زیادہ متوقع ہے جب بیرون ملک چینی اور سیاح واپس لوٹیں گے۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ شفٹ کے آغاز کے اوقات کو اسی حساب سے ترتیب دیں۔
حکام اس اضافے کی وجہ 45 ممالک پر مشتمل ویزا معافی کی فہرست میں توسیع، 65 داخلہ پوائنٹس پر 240 گھنٹے کے ٹرانزٹ ویزا پروگرام، اور بیرون ملک سے آنے والے خریداروں کو راغب کرنے کے لیے گھریلو "صارفین کی ترغیبات" کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اضافی اہلکار تعینات کرنے، مزید انسپیکشن کاؤنٹرز کھولنے اور بڑے ہوائی اڈوں اور زمینی راستوں پر ای-گیٹس چوبیس گھنٹے چلانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ رش اور تاخیر سے بچا جا سکے۔
کاروباری حلقوں کے لیے یہ پیش گوئی نہ صرف ہوائی اڈوں کی بھیڑ کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ذاتی ملاقاتوں، تجارتی میلوں میں شرکت اور تین سال قبل ناممکن رہنے والے کاموں کے آغاز کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ سفر کے منتظمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر کے شیڈول میں اضافی وقت رکھیں، عملے کو "چائنا امیگریشن" منی پروگرام پر صحت کے اعلان کی پیشگی رجسٹریشن کی یاد دہانی کرائیں، اور ایئر لائنز کی جانب سے اضافی گنجائش کے باعث اچانک پروازوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔
NIA کے نوٹس میں مختلف اوقات پر رش کی نشاندہی بھی کی گئی ہے: باہر جانے والے مسافروں کا رش تعطیلات کے پہلے دن (اتوار 17 فروری) کو عروج پر ہوگا، جبکہ واپس آنے والوں کی تعداد 22-23 فروری کو زیادہ متوقع ہے جب بیرون ملک چینی اور سیاح واپس لوٹیں گے۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ شفٹ کے آغاز کے اوقات کو اسی حساب سے ترتیب دیں۔
ماخذ: Xinhua via China Daily