
یوکرین کی مغربی سرحدی گارڈ سروس نے 4 جنوری کو اطلاع دی کہ پولینڈ کی طرف جانے والے کئی سرحدی راستوں—کرکیوٹس، راوا-روسکا اور اوسٹیلُگ—پر روانگی کی قطاریں گھنٹوں تک لگی رہیں کیونکہ خاندان نئے سال کی ملاقاتوں سے واپس لوٹ رہے تھے۔ بسوں اور ذاتی گاڑیوں کو سب سے زیادہ انتظار کرنا پڑا، اور کچھ راستے عارضی طور پر بھی بند کیے گئے تاکہ بھیڑ کم کی جا سکے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ دباؤ تب ہی کم ہوگا جب اسکول کی تعطیلات تقریباً 10 جنوری کے بعد ختم ہوں گی۔
پولش لاجسٹک کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ طویل تاخیر سے سیلیشیا کے آٹوموٹو پلانٹس کے لیے بروقت سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو لیووف سے لائی جانے والی پرزوں پر منحصر ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسے ڈرائیورز یورپی یونین کے ٹیکوگراف حدود سے تجاوز کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سرحد عبور کرنے کے بعد انہیں لازمی آرام کرنا پڑے گا۔
انفرادی مسافروں کے لیے عملی مشورہ ہے کہ وہ لائیو قطار کی معلومات پر نظر رکھیں، اضافی سامان ساتھ رکھیں اور ٹکٹ کی لچک کو یقینی بنائیں۔ پولینڈ میں کام کرنے والے یوکرینی شہریوں کو بھی چاہیے کہ اپنے یوکرینی رہائشی دستاویزات اور انشورنس کی میعاد چیک کریں؛ سرحدی تاخیر کی وجہ سے قیام کی حد سے تجاوز خود بخود معاف نہیں کیا جاتا۔
یہ صورتحال علاقائی نقل و حمل میں ایک مستقل مسئلے کو اجاگر کرتی ہے: اگرچہ 2022 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہوائی اور ریلوے رابطے بڑھ گئے ہیں، لیکن زیادہ تر موسمی سفر اب بھی سڑک کے ذریعے ہوتا ہے۔ اہم سرحدی راستوں پر انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے تو ہیں، مگر فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر منصوبے 2027 سے پہلے مکمل نہیں ہو سکیں گے۔
پولش لاجسٹک کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ طویل تاخیر سے سیلیشیا کے آٹوموٹو پلانٹس کے لیے بروقت سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو لیووف سے لائی جانے والی پرزوں پر منحصر ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسے ڈرائیورز یورپی یونین کے ٹیکوگراف حدود سے تجاوز کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سرحد عبور کرنے کے بعد انہیں لازمی آرام کرنا پڑے گا۔
انفرادی مسافروں کے لیے عملی مشورہ ہے کہ وہ لائیو قطار کی معلومات پر نظر رکھیں، اضافی سامان ساتھ رکھیں اور ٹکٹ کی لچک کو یقینی بنائیں۔ پولینڈ میں کام کرنے والے یوکرینی شہریوں کو بھی چاہیے کہ اپنے یوکرینی رہائشی دستاویزات اور انشورنس کی میعاد چیک کریں؛ سرحدی تاخیر کی وجہ سے قیام کی حد سے تجاوز خود بخود معاف نہیں کیا جاتا۔
یہ صورتحال علاقائی نقل و حمل میں ایک مستقل مسئلے کو اجاگر کرتی ہے: اگرچہ 2022 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہوائی اور ریلوے رابطے بڑھ گئے ہیں، لیکن زیادہ تر موسمی سفر اب بھی سڑک کے ذریعے ہوتا ہے۔ اہم سرحدی راستوں پر انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے تو ہیں، مگر فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر منصوبے 2027 سے پہلے مکمل نہیں ہو سکیں گے۔