
فرانس کے سفارت خانے نے کولمبو میں 23 جولائی کو کہا کہ سری لنکا کے صدر انورا کمار دیسانایکے کو جولائی میں متوقع سرکاری دورے سے پہلے ویزا دینے سے انکار کرنے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہ "بالکل غلط" ہے۔ دونوں حکومتوں نے تصدیق کی کہ دورہ صرف مؤخر کیا گیا ہے اور سربراہانِ مملکت سفارتی استثنیٰ کے تحت سفر کرتے ہیں، نہ کہ عام ویزا قوانین کے تحت۔ یہ وضاحت سنہالی زبان میں فیس بک پر پوسٹس کے بعد سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فرانس نے انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے صدر کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ کہانی اس وقت زور پکڑ گئی جب دیسانایکے نے اپنا دورہ مؤخر کیا، جس میں وہ فرانس کی حمایت حاصل کرنے کی امید رکھتے تھے تاکہ سری لنکا کو یورپی یونین کی ترجیحی تجارتی مراعات میں توسیع ملے اور فرانسیسی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ ویزا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غلط معلومات کاروباری مسافروں اور وفود میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، جو غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ فرانس سری لنکا کے شہریوں کے لیے داخلے کے قواعد سخت کر رہا ہے۔ ایسی کوئی پالیسی تبدیلی موجود نہیں ہے: سری لنکا کے پاسپورٹ ہولڈرز اب بھی معیاری شینگن قلیل مدتی ویزا کے تابع ہیں، جس کی پروسیسنگ کولمبو میں اوسطاً 15 دن لگتی ہے۔ کارپوریٹ موبلٹی ٹیموں کے لیے یہ واقعہ یاد دہانی ہے کہ ویزا کی معلومات کو سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے، خاص طور پر اس دور میں جب غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سفارت خانہ درخواست گزاروں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ France-Visas پورٹل پر انحصار کریں اور خبردار کرتا ہے کہ سربراہانِ مملکت کے پروٹوکول عام مسافروں کی ضروریات سے متعلق نہیں ہوتے۔
ماخذ: AFP Fact Check
VisaHQ کس طرح مدد کر سکتا ہے
VisaHQ افراد اور کاروباروں کے لیے ویزا درخواست کا عمل آسان بناتا ہے۔ موجودہ سفری تقاضے دیکھیں، مطلوبہ دستاویزات تیار کریں اور فرانس کے لیے VisaHQ پورٹل کے ذریعے اپنی درخواست آن لائن منظم کریں۔مزید معلومات فرانس
تمام دیکھیں
فرانس نے یکم اگست سے طلباء کے ویزے کے لیے ماہانہ گزارہ کی حد €877.50 مقرر کر دی ہے۔
فرانس اور سری لنکا نے صدر دیسانایکے کے سرکاری دورے کے لیے ویزا انکار کی افواہ کی تردید کر دی