
شمالی بھارت کی بدنام زمانہ سردیوں کی دھند زوروں پر واپس آ گئی ہے، جس نے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بڑے پیمانے پر خلل ڈال دیا ہے اور ملکی و بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ 12 جنوری 2026 کو صبح 8 بجے تک، انڈیگو نے 90 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ نے مسافروں کو جے پور سے گوہاٹی تک 20 سے زائد ہوائی اڈوں پر ممکنہ تاخیر یا راستہ بدلنے کی وارننگ دی ہے۔
عملی اثرات: دہلی کے CAT III-B رن وے تکنیکی طور پر 50 میٹر کی حد تک نظر کی اجازت دیتے ہیں، لیکن رن وے پر طویل قیام کی وجہ سے ایئر ٹریفک کنٹرول کو طیاروں کے درمیان فاصلہ بڑھانا پڑتا ہے۔ اس سے ہوائی جہازوں کی روانگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی مسافروں کے کنکشن چھوٹ جاتے ہیں اور عملے کی ڈیوٹی میں خلل پڑتا ہے، جو اگلے دن کی منسوخیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
کاروباری مسافروں پر اثرات: کارپوریٹ موبلٹی مینیجرز نے ممبئی میں معاہدے کی ملاقاتیں چھوٹنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ احمد آباد اور ناگپور کے پلانٹ سائٹس جانے والے کئی غیر ملکی کارکن دہلی میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لاجسٹکس کمپنیوں نے وقت کی حساس شپمنٹس میں تاخیر کی وارننگ دی ہے جو بیلی کارگو کے ذریعے جاتی ہیں۔
احتیاطی اقدامات: 1) ایئر لائنز سات دن کے اندر مفت ری بکنگ کی سہولت دے رہی ہیں۔ 2) مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حقیقی وقت میں ایس ایم ایس الرٹس کے لیے رجسٹر ہوں اور سخت کنکشن سے بچیں۔ 3) شمالی بھارت کے اکثر سفر کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دسمبر سے فروری تک موسم کی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی پالیسی میں اضافی وقت شامل کریں۔
ریگولیٹری پہلو: سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ جنرل ایئر لائنز کے شیڈول میں تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور کیریئرز کو یاد دہانی کرائی ہے کہ چھ گھنٹے سے زائد تاخیر کی صورت میں مسافروں کو کھانے اور ہوٹل کی سہولت فراہم کرنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔
عملی اثرات: دہلی کے CAT III-B رن وے تکنیکی طور پر 50 میٹر کی حد تک نظر کی اجازت دیتے ہیں، لیکن رن وے پر طویل قیام کی وجہ سے ایئر ٹریفک کنٹرول کو طیاروں کے درمیان فاصلہ بڑھانا پڑتا ہے۔ اس سے ہوائی جہازوں کی روانگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی مسافروں کے کنکشن چھوٹ جاتے ہیں اور عملے کی ڈیوٹی میں خلل پڑتا ہے، جو اگلے دن کی منسوخیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
کاروباری مسافروں پر اثرات: کارپوریٹ موبلٹی مینیجرز نے ممبئی میں معاہدے کی ملاقاتیں چھوٹنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ احمد آباد اور ناگپور کے پلانٹ سائٹس جانے والے کئی غیر ملکی کارکن دہلی میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لاجسٹکس کمپنیوں نے وقت کی حساس شپمنٹس میں تاخیر کی وارننگ دی ہے جو بیلی کارگو کے ذریعے جاتی ہیں۔
احتیاطی اقدامات: 1) ایئر لائنز سات دن کے اندر مفت ری بکنگ کی سہولت دے رہی ہیں۔ 2) مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ حقیقی وقت میں ایس ایم ایس الرٹس کے لیے رجسٹر ہوں اور سخت کنکشن سے بچیں۔ 3) شمالی بھارت کے اکثر سفر کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دسمبر سے فروری تک موسم کی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی پالیسی میں اضافی وقت شامل کریں۔
ریگولیٹری پہلو: سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ جنرل ایئر لائنز کے شیڈول میں تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور کیریئرز کو یاد دہانی کرائی ہے کہ چھ گھنٹے سے زائد تاخیر کی صورت میں مسافروں کو کھانے اور ہوٹل کی سہولت فراہم کرنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔
ماخذ: The Financial Express