
بھارتی مسافروں کے لیے بڑی سہولت: جرمنی نے بھارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ایئرپورٹ ٹرانزٹ ویزا کی شرط ختم کر دی ہے۔ یہ اعلان 12 جنوری 2026 کو چانسلر فریڈرک مرز کے نئی دہلی دورے کے دوران کیا گیا، جس کے تحت بھارتی مسافر جو فرینکفرٹ، میونخ یا برلن جیسے ہب سے اگلی پرواز پکڑتے ہیں، اگر وہ بین الاقوامی ٹرانزٹ زون میں رہیں اور 24 گھنٹوں کے اندر اپنی اگلی پرواز لے لیں، تو انہیں شینگن ‘ٹائپ اے’ ٹرانزٹ ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔
پس منظر: اب تک، بھارت سے امریکہ، یورپ، افریقہ یا لاطینی امریکہ جانے والے مسافروں کو جرمنی کے ذریعے سفر کے لیے اضافی وقت (عام طور پر 5-7 دن) لینا پڑتا تھا اور 60 یورو فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ ایئرلائنز کو بھی آخری لمحات میں مسافروں کے بغیر ویزا پہنچنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے تجارتی اور ساکھ کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ یہ تبدیلی بھارتی ایئرلائنز، ٹریول انڈسٹری اور وزارت خارجہ کی طویل مہم کے بعد ممکن ہوئی، جنہوں نے کہا کہ جرمنی کی پالیسی پیرس-CDG اور ایمسٹرڈیم-شپول جیسے دیگر یورپی ہبز سے مختلف اور مشکل تھی۔
کاروباری اثرات: اس تبدیلی سے کاروباری مسافروں اور عالمی ملازمین کے لیے ٹرانزٹ کا عمل آسان ہو جائے گا، جبکہ بھارتی برآمد کنندگان اور چھوٹے کاروباری مالکان کو لاطینی امریکہ اور افریقہ کے لیے زیادہ راستے میسر آئیں گے، جو عام طور پر لوفتھانسا اور کونڈور کے ذریعے ہوتے ہیں۔ ٹریول مینیجرز کا اندازہ ہے کہ ہر سفر پر ویزا فیس، کورئیر چارجز اور پیداوار میں کمی کی وجہ سے 5,500 سے 7,000 روپے کی بچت ہوگی۔ ایئرلائنز توقع کر رہی ہیں کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک بھارت-جرمنی ٹرانزٹ ٹریفک میں 10-12 فیصد اضافہ ہوگا۔
عملی ہدایات: 1) یہ چھوٹ صرف 24 گھنٹے سے کم ایئر سائیڈ ٹرانزٹ کے لیے ہے؛ جو لوگ امیگریشن سے باہر نکلنا چاہتے ہیں انہیں شینگن سی ویزا لازمی ہوگا۔ 2) مسافروں کو اپنی اگلی پرواز کے تصدیق شدہ ٹکٹ ساتھ رکھنا چاہیے اور ٹرانزٹ ایریا میں رہنا ہوگا۔ 3) شمالی امریکہ جانے والے بھارتی شہریوں کو اپنی آخری منزل کے لیے ضروری ESTA/ETA لازمی حاصل کرنا ہوگا۔
وسیع تر اہمیت: ویزا سہولت کاری مرز-مودی سمٹ کے دوران دستخط شدہ 19 مفاہمتی یادداشتوں میں نمایاں رہی، جن میں دفاعی صنعتی تعاون اور گرین ہائیڈروجن سرمایہ کاری بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برلن کا یہ اقدام دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا تاکہ دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے آؤٹ باؤنڈ مارکیٹ کے لیے طریقہ کار آسان بنایا جا سکے۔
پس منظر: اب تک، بھارت سے امریکہ، یورپ، افریقہ یا لاطینی امریکہ جانے والے مسافروں کو جرمنی کے ذریعے سفر کے لیے اضافی وقت (عام طور پر 5-7 دن) لینا پڑتا تھا اور 60 یورو فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ ایئرلائنز کو بھی آخری لمحات میں مسافروں کے بغیر ویزا پہنچنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے تجارتی اور ساکھ کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ یہ تبدیلی بھارتی ایئرلائنز، ٹریول انڈسٹری اور وزارت خارجہ کی طویل مہم کے بعد ممکن ہوئی، جنہوں نے کہا کہ جرمنی کی پالیسی پیرس-CDG اور ایمسٹرڈیم-شپول جیسے دیگر یورپی ہبز سے مختلف اور مشکل تھی۔
کاروباری اثرات: اس تبدیلی سے کاروباری مسافروں اور عالمی ملازمین کے لیے ٹرانزٹ کا عمل آسان ہو جائے گا، جبکہ بھارتی برآمد کنندگان اور چھوٹے کاروباری مالکان کو لاطینی امریکہ اور افریقہ کے لیے زیادہ راستے میسر آئیں گے، جو عام طور پر لوفتھانسا اور کونڈور کے ذریعے ہوتے ہیں۔ ٹریول مینیجرز کا اندازہ ہے کہ ہر سفر پر ویزا فیس، کورئیر چارجز اور پیداوار میں کمی کی وجہ سے 5,500 سے 7,000 روپے کی بچت ہوگی۔ ایئرلائنز توقع کر رہی ہیں کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک بھارت-جرمنی ٹرانزٹ ٹریفک میں 10-12 فیصد اضافہ ہوگا۔
عملی ہدایات: 1) یہ چھوٹ صرف 24 گھنٹے سے کم ایئر سائیڈ ٹرانزٹ کے لیے ہے؛ جو لوگ امیگریشن سے باہر نکلنا چاہتے ہیں انہیں شینگن سی ویزا لازمی ہوگا۔ 2) مسافروں کو اپنی اگلی پرواز کے تصدیق شدہ ٹکٹ ساتھ رکھنا چاہیے اور ٹرانزٹ ایریا میں رہنا ہوگا۔ 3) شمالی امریکہ جانے والے بھارتی شہریوں کو اپنی آخری منزل کے لیے ضروری ESTA/ETA لازمی حاصل کرنا ہوگا۔
وسیع تر اہمیت: ویزا سہولت کاری مرز-مودی سمٹ کے دوران دستخط شدہ 19 مفاہمتی یادداشتوں میں نمایاں رہی، جن میں دفاعی صنعتی تعاون اور گرین ہائیڈروجن سرمایہ کاری بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برلن کا یہ اقدام دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا تاکہ دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے آؤٹ باؤنڈ مارکیٹ کے لیے طریقہ کار آسان بنایا جا سکے۔
ماخذ: The Times of India
VisaHQ کس طرح مدد کر سکتا ہے
VisaHQ افراد اور کاروباروں کے لیے ویزا درخواست کا عمل آسان بناتا ہے۔ موجودہ سفری تقاضے دیکھیں، مطلوبہ دستاویزات تیار کریں اور بھارت کے لیے VisaHQ پورٹل کے ذریعے اپنی درخواست آن لائن منظم کریں۔مزید معلومات بھارت
تمام دیکھیں
شمالی بھارت میں گھنے دھند کے باعث پروازیں معطل؛ انڈیگو نے 90 سے زائد پروازیں منسوخ کر دیں، ایئرلائنز نے ملک بھر میں الرٹس جاری کر دیئے
لائن آف کنٹرول پر پاکستانی ڈرونز کی دراندازی سے سیکیورٹی الرٹ، سرحدی نقل و حرکت پر ممکنہ پابندیاں