
کل ممبئی میں کاروباری اور تفریحی مسافروں کو ایک غیر معمولی رکاوٹ کا سامنا ہوگا: شہر کی پولیس نے 17 فروری کو بھارت-فرانس سالِ جدت کے مرکزی پروگرام کی سیکیورٹی کے لیے متواتر سڑک بندشیں اور راستے تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس میں صدر ایمانوئل میکرون اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی شرکت کریں گے۔
فرانسیسی کاروباری رہنماؤں، انجینئروں اور 150 رکنی تجارتی وفد کے اسٹارٹ اپس کے لیے یہ اقدامات چھترپتی شیو جی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جنوبی ممبئی کے کانفرنس زون اور نریمان پوائنٹ و بندرا-کرلا کے ہوٹل علاقوں کے درمیان سفر کے اوقات میں اضافہ کا باعث بنیں گے۔ مقامی حکام کے مطابق ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر دوپہر 2 بجے سے رات 9 بجے تک مرحلہ وار ٹریفک روکی جائے گی، جبکہ کولابا، میرین ڈرائیو اور گیٹ وے آف انڈیا کے گرد کئی اہم سڑکیں ایک طرفہ کر دی جائیں گی۔ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں نے اضافی چارجز کی وارننگ دی ہے اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریڈ زون کے باہر پک اپ کا وقت طے کریں۔
یہ پابندیاں ایک وسیع حفاظتی زون کا حصہ ہیں جس میں ڈرونز کے لیے فلائٹ پابندیاں، مقامی سیاحتی فیری سروسز کی عارضی معطلی اور فرانسیسی وفد کے لیے تیز رفتار امیگریشن لائنز شامل ہیں۔ ایئرلائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ یورپ کے لیے کنکشن فلائٹس کے لیے شہر سے روانگی اور پرواز کے وقت کے درمیان کم از کم چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔
کاروباری سطح پر، اجلاس میں گرین ایوی ایشن فیول، کوانٹم کمپیوٹنگ اور اسمارٹ موبلٹی اسٹارٹ اپس میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے منصوبے پیش کیے جائیں گے۔ فرانس بھارت کا تیسرا سب سے بڑا یورپی ٹیکنالوجی سرمایہ کار ہے، اور دونوں حکومتیں اس موقع پر جولائی میں اعلان کردہ مشترکہ ورک پرمٹ پروگرام کو حتمی شکل دینے کی امید رکھتی ہیں۔ سیفران، ڈاسو سسٹمز اور بھارت کی ٹاٹا ایلکسی جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں ایسے پائلٹ ایکسچینج اسکیمز کا اعلان کریں گی جو ماہر ویزوں کے لیے 10 دن کے اندر کارروائی کی ضمانت دیتی ہیں۔
اگرچہ سفارتی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی ٹیلنٹ کے تبادلے کو فروغ دیں گے، قلیل مدتی مسافروں کو چاہیے کہ اپنے سفر کے شیڈول میں اضافی وقت رکھیں اور پہلے سے ڈرائیوروں کے ساتھ پک اپ پوائنٹس کی تصدیق کریں۔ ممبئی میں فرانسیسی قونصل خانے نے تاج محل پیلس ہوٹل میں ایک عارضی ڈیسک قائم کیا ہے تاکہ اگر وفد کے ارکان شام کی پروازیں مس کر دیں تو ہنگامی لیزے پاسر جاری کیے جا سکیں۔
فرانسیسی کاروباری رہنماؤں، انجینئروں اور 150 رکنی تجارتی وفد کے اسٹارٹ اپس کے لیے یہ اقدامات چھترپتی شیو جی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جنوبی ممبئی کے کانفرنس زون اور نریمان پوائنٹ و بندرا-کرلا کے ہوٹل علاقوں کے درمیان سفر کے اوقات میں اضافہ کا باعث بنیں گے۔ مقامی حکام کے مطابق ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر دوپہر 2 بجے سے رات 9 بجے تک مرحلہ وار ٹریفک روکی جائے گی، جبکہ کولابا، میرین ڈرائیو اور گیٹ وے آف انڈیا کے گرد کئی اہم سڑکیں ایک طرفہ کر دی جائیں گی۔ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں نے اضافی چارجز کی وارننگ دی ہے اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریڈ زون کے باہر پک اپ کا وقت طے کریں۔
یہ پابندیاں ایک وسیع حفاظتی زون کا حصہ ہیں جس میں ڈرونز کے لیے فلائٹ پابندیاں، مقامی سیاحتی فیری سروسز کی عارضی معطلی اور فرانسیسی وفد کے لیے تیز رفتار امیگریشن لائنز شامل ہیں۔ ایئرلائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ یورپ کے لیے کنکشن فلائٹس کے لیے شہر سے روانگی اور پرواز کے وقت کے درمیان کم از کم چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔
کاروباری سطح پر، اجلاس میں گرین ایوی ایشن فیول، کوانٹم کمپیوٹنگ اور اسمارٹ موبلٹی اسٹارٹ اپس میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے منصوبے پیش کیے جائیں گے۔ فرانس بھارت کا تیسرا سب سے بڑا یورپی ٹیکنالوجی سرمایہ کار ہے، اور دونوں حکومتیں اس موقع پر جولائی میں اعلان کردہ مشترکہ ورک پرمٹ پروگرام کو حتمی شکل دینے کی امید رکھتی ہیں۔ سیفران، ڈاسو سسٹمز اور بھارت کی ٹاٹا ایلکسی جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں ایسے پائلٹ ایکسچینج اسکیمز کا اعلان کریں گی جو ماہر ویزوں کے لیے 10 دن کے اندر کارروائی کی ضمانت دیتی ہیں۔
اگرچہ سفارتی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی ٹیلنٹ کے تبادلے کو فروغ دیں گے، قلیل مدتی مسافروں کو چاہیے کہ اپنے سفر کے شیڈول میں اضافی وقت رکھیں اور پہلے سے ڈرائیوروں کے ساتھ پک اپ پوائنٹس کی تصدیق کریں۔ ممبئی میں فرانسیسی قونصل خانے نے تاج محل پیلس ہوٹل میں ایک عارضی ڈیسک قائم کیا ہے تاکہ اگر وفد کے ارکان شام کی پروازیں مس کر دیں تو ہنگامی لیزے پاسر جاری کیے جا سکیں۔
ماخذ: Times of India