
بنگلور کے کیمپیگوڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 16 جولائی کی رات آپریشنز میں ہلچل مچ گئی جب انڈیگو کی فلائٹ 6E-6423 کے کیبن عملے نے بیت الخلا میں ایک ہاتھ سے لکھی گئی نوٹ دیکھی جس میں بم ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے 185 مسافروں کو ایئرپورٹ سے نکالا، جہاز کو علیحدہ جگہ منتقل کیا اور مکمل دھماکہ خیز مواد کی تلاشی لی؛ لیکن کوئی بم نہیں ملا۔ پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد معمول کے آپریشنز بحال ہوئے، تاہم کم از کم 27 ملکی اور 11 بین الاقوامی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا مس ہو گئیں۔ یہ واقعہ گزشتہ دو ماہ میں بھارتی ہوائی اڈوں پر ہونے والے تیسری جھوٹی دھمکی ہے، جو کم اعتبار انتباہات کی وجہ سے آپریشنز کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ایئرلائنز کو ایندھن کے اضافی اخراجات، عملے کے اضافی اوقات اور مسافروں کی دوبارہ بکنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ایئرپورٹ انتظامیہ کو بھی شدید رش کا سامنا ہوتا ہے۔ پولیس نے غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف قانون کے تحت ایف آئی آر درج کر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ ملزم کی شناخت کی جا سکے۔ حکام حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے معیاری طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ردعمل کا وقت کم کیا جا سکے بغیر سلامتی کو متاثر کیے۔ عالمی سفری منیجرز کے لیے یہ واقعہ یاد دہانی ہے کہ سخت شیڈولز میں ہنگامی حالات کے لیے اضافی وقت رکھا جائے، خاص طور پر جب بھارتی ہوائی اڈوں کے ذریعے ملازمین کی منتقلی یا وزیٹنگ ایگزیکٹوز کی سفر کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو۔ مسافروں کو چاہیے کہ ایئرلائن کی ایپس اور بیورو آف سول ایوی ایشن سیکیورٹی (BCAS) کی تازہ ترین ہدایات پر نظر رکھیں۔
ماخذ: The Print / PTI