
ہانگ کانگ کے محکمہ امیگریشن کے مطابق، 1 سے 3 جنوری کے درمیان، جو 2026 کا پہلا طویل ویک اینڈ تھا، 3.2 ملین مسافروں کی آمد و رفت ہوئی۔ ان میں سے 1.63 ملین مسافر پہنچے، جن میں سے زیادہ تر لو وو ریلوے کراسنگ (620,000) اور لوک ما چاؤ/فوٹیان سپر لائن (570,000) سے گزرے۔ کل آمد و رفت 2019 کے نئے سال کی چوٹی کے 85 فیصد تک پہنچ گئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ پچھلے پندرہ ماہ میں وبائی پابندیاں ختم ہونے کے بعد سرحد پار نقل و حرکت کتنی تیزی سے معمول پر آ رہی ہے۔
حکام نے کئی "چھٹیوں کے دوران رش" اقدامات کو سراہا۔ متحرک "امیگریشن مارشلز" کو بھیڑ کو فوری طور پر ہدایت دینے کے لیے تعینات کیا گیا، تمام زمینی چیک پوائنٹس پر کم از کم نصف ای-چینل گیٹس 24 گھنٹے کھلے رکھے گئے، اور ایم ٹی آر کارپوریشن نے گریٹر بے ایریا ٹرانسپورٹ سہولت کاری اسکیم کے تحت چھ اضافی انٹر سٹی تھرو ٹرین سروسز چلائیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں، اسمارٹ ڈیپارچر کیو آر کوڈ لینز—جو اب ہر کنٹرول پوائنٹ پر مکمل طور پر نافذ ہو چکی ہیں—نے اوسط کلیئرنس وقت کو 20 سیکنڈ سے بھی کم کر دیا ہے۔
سرحد کے دونوں طرف کے ریٹیلرز اور ہوٹلز نے اس اعداد و شمار کا خیرمقدم کیا۔ مونگ کوک کے کاسمیٹکس کی دکانوں نے پچھلے سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ آمدنی کی اطلاع دی، جبکہ شینزین کے ہوٹلوں کی بکنگ 92 فیصد تک پہنچ گئی کیونکہ دن کے سیاح رش سے بچنے کے لیے رات گزارنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ لاجسٹکس کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوا: ٹرکنگ گروپ مین سانگ لاجسٹکس نے کہا کہ ایک ہی دن میں سرحد پار ترسیلات "تقریباً معمول کے مطابق" ہو گئی ہیں، جس سے برآمد کنندگان کو تعطیلات کے بعد کے سخت ڈیڈ لائنز پر پورا اترنے میں مدد ملی ہے۔
تاہم، گنجائش کی پابندیاں برقرار ہیں۔ لو وو اسٹیشن، جو روزانہ 300,000 مسافروں کے لیے بنایا گیا تھا، 2 جنوری کو اس سے دوگنا سے زیادہ مسافروں کو سنبھال رہا تھا۔ محکمہ امیگریشن اگلے چینی نئے سال کے گولڈن ویک کے دوران "ڈائنامک لین سوئچنگ" کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں ضرورت کے مطابق روانگی کی لینوں کو آمد کی لینوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ کاروباروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عملے کے سفر کے دنوں کو تقسیم کریں اور کم معروف کراسنگز جیسے ہیونگ یوین وائی کے استعمال کی ترغیب دیں تاکہ بھیڑ سے بچا جا سکے۔
حکام نے کئی "چھٹیوں کے دوران رش" اقدامات کو سراہا۔ متحرک "امیگریشن مارشلز" کو بھیڑ کو فوری طور پر ہدایت دینے کے لیے تعینات کیا گیا، تمام زمینی چیک پوائنٹس پر کم از کم نصف ای-چینل گیٹس 24 گھنٹے کھلے رکھے گئے، اور ایم ٹی آر کارپوریشن نے گریٹر بے ایریا ٹرانسپورٹ سہولت کاری اسکیم کے تحت چھ اضافی انٹر سٹی تھرو ٹرین سروسز چلائیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں، اسمارٹ ڈیپارچر کیو آر کوڈ لینز—جو اب ہر کنٹرول پوائنٹ پر مکمل طور پر نافذ ہو چکی ہیں—نے اوسط کلیئرنس وقت کو 20 سیکنڈ سے بھی کم کر دیا ہے۔
سرحد کے دونوں طرف کے ریٹیلرز اور ہوٹلز نے اس اعداد و شمار کا خیرمقدم کیا۔ مونگ کوک کے کاسمیٹکس کی دکانوں نے پچھلے سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ آمدنی کی اطلاع دی، جبکہ شینزین کے ہوٹلوں کی بکنگ 92 فیصد تک پہنچ گئی کیونکہ دن کے سیاح رش سے بچنے کے لیے رات گزارنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ لاجسٹکس کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوا: ٹرکنگ گروپ مین سانگ لاجسٹکس نے کہا کہ ایک ہی دن میں سرحد پار ترسیلات "تقریباً معمول کے مطابق" ہو گئی ہیں، جس سے برآمد کنندگان کو تعطیلات کے بعد کے سخت ڈیڈ لائنز پر پورا اترنے میں مدد ملی ہے۔
تاہم، گنجائش کی پابندیاں برقرار ہیں۔ لو وو اسٹیشن، جو روزانہ 300,000 مسافروں کے لیے بنایا گیا تھا، 2 جنوری کو اس سے دوگنا سے زیادہ مسافروں کو سنبھال رہا تھا۔ محکمہ امیگریشن اگلے چینی نئے سال کے گولڈن ویک کے دوران "ڈائنامک لین سوئچنگ" کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں ضرورت کے مطابق روانگی کی لینوں کو آمد کی لینوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ کاروباروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عملے کے سفر کے دنوں کو تقسیم کریں اور کم معروف کراسنگز جیسے ہیونگ یوین وائی کے استعمال کی ترغیب دیں تاکہ بھیڑ سے بچا جا سکے۔