
بھارت کی وزارت خارجہ نے 21 جولائی کو روس کے چارج ڈی افیئرز ولادیمیر لادانوو کو طلب کر کے 19 جولائی کو ریڈ سی میں لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والے جہاز MV *Golden Leo* پر میزائل حملے پر سخت احتجاج کیا، جس میں چار بھارتی عملے کے ارکان ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ سمندری سیکیورٹی کمپنیوں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ حوثی باغیوں نے کیا، تاہم میزائل کے ٹکڑوں پر روسی ساختہ ہتھیاروں کے نشان ملے ہیں۔ عالمی نقل و حمل پر اثرات: 1) بھارتی سمندری عملہ، جو دنیا کے تجارتی جہازوں کے عملے کا تقریباً 10 فیصد ہے، ریڈ سی کے راستوں پر اضافی خطرے کی فیس کا سامنا کرے گا، اور عملہ بھرتی کرنے والی ایجنسیاں خطرے کی ادائیگی میں 30 فیصد اضافہ متوقع سمجھتی ہیں۔ 2) بھارت سے یورپ برآمدات کے لیے لاجسٹک منصوبہ ساز کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل راستے کو مدنظر رکھیں گے، جس سے ترسیل میں 10-12 دن کا اضافہ اور فریٹ کے اخراجات بڑھیں گے۔ حکومتی ردعمل: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے عارضی ہدایت جاری کی ہے کہ بھارتی جھنڈے والے جہاز ریڈ سی میں 15°N عرض بلد کے جنوب سے گزریں اور نگرانی سخت کریں۔ بھارتی بحریہ کا جہاز *INS Kolkata* خطرناک علاقوں میں اسکورٹ کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ سفارتی پہلو: اگرچہ حملہ براہ راست ماسکو سے منسوب نہیں کیا گیا، لیکن نئی دہلی کی سخت احتجاجی کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی جانوں کو لاحق خطرات بھارت-روس کے روایتی مضبوط تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ممبئی کے انشورنس انڈر رائٹرز کا کہنا ہے کہ باب المندب کے راستے مال برداری کے لیے جنگی خطرے کی پریمیم فوری طور پر بڑھ جائے گی۔ ملازمت دہندگان کے لیے مشورہ: بھارتی عملے والے کثیر القومی ادارے بحران کے ردعمل کے پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کریں، قریبی رشتہ داروں کی تفصیلات کی تصدیق کریں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی مدد کی سہولیات یقینی بنائیں۔
ماخذ: Akashvani News