
وزارت خارجہ نے 21 جولائی 2026 کو روس کے چارج ڈی افیئرز ولادیمیر لادانوو کو طلب کیا تاکہ 19 جولائی کو خلیج عمان میں لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والے جہاز MV گولڈن لیو پر میزائل حملے کی شدید مذمت کی جا سکے۔ مغربی بحری ذرائع کے مطابق یہ حملہ یمن سے چلنے والے ایک باغی ڈرون نے کیا تھا، جس میں چار بھارتی عملے کے ارکان ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ بھارت نے ماسکو سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقائی فریقین پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ تجارتی جہاز رانی پر مزید حملے روکے جا سکیں، کیونکہ بھارتی ملاحوں کے 17 فیصد کام کے دن ہرمز کے تنگ سمندر سے گزرنے والے جہازوں پر ہوتے ہیں۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ زدہ علاقوں میں بھارتی شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے کمپنیوں کی تشویش کو دوبارہ جگا دیا ہے۔ شپ مینیجرز، جیسے Maersk اور MSC، نے کئی سفر کی راہیں کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد موڑ دی ہیں، جس سے 12 سے 14 دن کا اضافی وقت اور ایندھن کے بھاری اخراجات ہوئے ہیں۔ وہ کمپنیاں جو وقت کی حساس اشیاء جیسے دوائیں اور آٹو پارٹس برآمد کرتی ہیں، انہیں بڑھتے ہوئے کرایوں اور ملازمین کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ سمندری بیمہ کنندگان نے بھارتی عملے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرے کے پریمیم میں حملے کے بعد 30 بیسس پوائنٹس تک اضافہ کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ جلد ہی ایک نیا سرکلر جاری کرے گا جس میں بھارتی بندرگاہوں پر ساحل پر چھٹی اور عملے کی تبدیلی کے پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ واپس آنے والے عملے کو مشاورت اور ذہنی صحت کی مدد فراہم کی جا سکے۔ آجرین کو ہنگامی انخلا اور بحری مزدور کنونشن (MLC) کے تحت بیمہ دعووں کے لیے دستاویزات تیار رکھنی چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ گولڈن لیو سانحہ بڑھتے ہوئے سمندری سلامتی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے جو براہ راست بھارت کے 2,50,000 سے زائد سمندری کارکنوں اور ان پر منحصر عالمی سپلائی چینز کو متاثر کرتے ہیں۔ شپنگ، تیل و گیس اور پروجیکٹ لاجسٹکس کے موبلٹی اور رسک مینیجرز کو فوری طور پر بحران سے نمٹنے کے منصوبے کا جائزہ لینا ہوگا۔
ماخذ: Akashvani News