
اسپین کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ مراکشی جنگی جہاز جولائی کے آخر میں سیوٹا کے علاقائی پانیوں میں مختصر طور پر داخل ہوئے، جب فنیدق سے 80,000 افراد کی ہجرت کی لہر عروج پر تھی۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے 12 اکتوبر کو قومی دن کی تقریب میں اس واقعے کو "تنہا واقعہ" قرار دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کو اطلاع دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ 13-14 اکتوبر کو بادشاہ فلیپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے جولائی کے بحران کے بعد پہلی بار سیوٹا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی حکام اور سیکیورٹی فورسز سے ملاقات کی۔ بادشاہ نے اپنے خطاب میں مراکش کے ساتھ "اچھے ارادے اور تعمیری مکالمے" کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس علاقے کی سرحد یورپی سرحد ہے جس کی سالمیت "پورے یورپی یونین کے لیے اہم ہے۔" سفارتکاروں کے مطابق، رباط کا بحریہ مہاجر کشتیوں کی نگرانی کر رہا تھا تاکہ غیر قانونی عبور کو روکا جا سکے اور ممکن ہے کہ انہوں نے گشت کی حدود کو غلط سمجھا ہو۔ تاہم، اس واقعے نے میڈرڈ میں اسپین کے جنگی قواعد اور 2024 میں دستخط شدہ دو طرفہ بحری سلامتی معاہدے کی کارکردگی پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین کی بحریہ نے سیوٹا میں اپنی گشت کی تعداد دوگنی کر دی ہے اور شیوی (SIVE) ساحلی نگرانی کا نظام دو ماہ قبل نصب کر دیا ہے۔ عالمی نقل و حرکت کے نقطہ نظر سے، یہ واقعہ سیوٹا کے عبور کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جو سینکڑوں مراکشی روزانہ مزدور استعمال کرتے ہیں جن کے پاس خاص سرحدی کارڈ ہوتے ہیں جو شینگن ویزا سے مستثنیٰ ہیں۔ مزید کشیدگی کی صورت میں اسپین ان اجازت ناموں کو معطل کر سکتا ہے یا جیسا کہ اٹلی نے اس ماہ کے شروع میں کیا، اسپین سے پروازوں اور فیریوں پر عارضی طور پر شینگن کنٹرول دوبارہ نافذ کر سکتا ہے — ایک ایسا منظرنامہ جس کے لیے اسٹریٹ کے پار عملہ منتقل کرنے والی کمپنیوں کو منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ تانگیر-میڈ اور جنوبی اسپین میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہنگامی منصوبے کا جائزہ لیں، بشمول الجیسیراس یا جبل الطارق کے ذریعے متبادل راستے، اور 14 اکتوبر کی شام فنیدق میں ممکنہ احتجاجات کی نگرانی کریں۔