
15 مارچ کو، ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ (HKIA) سے پرل ریور ڈیلٹا جانے والے ٹرانزٹ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب صبح سویرے کی اسکائی پیئر فیری جو گوانگژو کے پازہو فیری ٹرمینل کے لیے روانہ ہوتی ہے، منسوخ کر دی گئی اور اس کی نئی روانگی آٹھ گھنٹے بعد مقرر کی گئی۔ مانچسٹر-ہانگ کانگ-گوانگژو کے سفر پر موجود ایک برطانوی پاسپورٹ ہولڈر نے ایئرلائن فورم پر بتایا کہ نئی 15:00 کی روانگی سے کل ٹرانزٹ وقت دو گھنٹے سے بڑھ کر تقریباً دس گھنٹے ہو جائے گا، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا فیری چھوڑ کر ہانگ کانگ میں داخل ہو کر ہائی اسپیڈ ریل کے ذریعے سفر جاری رکھنا بہتر ہوگا۔
اسکائی پیئر کا ایئر-سی کنیکٹڈ فیری نیٹ ورک، جو HKIA کے محدود علاقے میں چلتا ہے، بین الاقوامی مسافروں کو ہانگ کانگ امیگریشن سے گزرے بغیر مین لینڈ کے بندرگاہوں تک پہنچنے کی سہولت دیتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام آسان ہے، لیکن ہر منزل کے لیے روزانہ چند ہی روانگیاں ہوتی ہیں، جس سے مرمت، عملے کی کمی یا موسم کی خرابی کی صورت میں کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ کاروباری مسافر جن کے ویزے وقت کی پابندی والے ہوں یا جو نازک نمونے لے کر سفر کر رہے ہوں، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نقل و حمل کا کہنا ہے کہ زمینی راستے سے سفر ممکن ہے، لیکن اس کے نقصانات بھی ہیں۔ ہانگ کانگ امیگریشن سے گزر کر ویسٹ کوولون ہائی اسپیڈ ریل یا کراس-بارڈر بسوں تک پہنچنے سے داخلے کا اسٹامپ لگتا ہے، کم از کم دو گھنٹے اضافی لگتے ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیری سروس کے ذریعے چیک کیے گئے سامان کا کنکشن ختم ہو جاتا ہے۔ مسافروں کو اپنے بیگ خود نکال کر کسٹمز سے گزرنا اور ریل اسٹیشن پر دوبارہ چیک کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ مین لینڈ ویزا کے بغیر پہنچتے ہیں، وہ اس متبادل کا استعمال نہیں کر سکتے۔
کیٹھی پیسیفک اور فیری آپریٹر چو کانگ پاسنجر ٹرانسپورٹ ری-بکنگ اور ریفنڈ کی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن رہائش یا چھوٹے ہوئے میٹنگز کے نقصان کی تلافی محدود ہے۔ اس لیے کارپوریٹ ٹریول مینیجرز کو چاہیے کہ وہ فیری آپریشن کی اطلاعات پر نظر رکھیں، گریٹر بے ایریا کے سفر میں زیادہ لمبے وقفے شامل کریں، اور عملے کو الیکٹرانک ویزا یا ملٹی انٹری پرمٹ رکھنے کی ہدایت دیں تاکہ سمندری رابطے ناکام ہونے پر زمینی راستے اختیار کیے جا سکیں۔
پالیسی کے نقطہ نظر سے، یہ واقعہ HKIA–گوانگژو کورڈور پر روانگیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کیونکہ گریٹر بے ایریا میں کاروباری روابط گہرے ہو رہے ہیں۔ صنعت کے ادارے طویل عرصے سے ہر گھنٹے روانگی اور ہائی اسپیڈ ریل کے ساتھ مربوط ٹکٹنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسافروں کو متبادل راستے میسر ہوں۔ تب تک، کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ سفر کی ہدایات میں ہنگامی منصوبہ بندی شامل کریں اور اپنے عملے کو SAR میں ہوائی، سمندری اور ریلوے کے درمیان خود مختار سفر کے طریقے سکھائیں۔
اسکائی پیئر کا ایئر-سی کنیکٹڈ فیری نیٹ ورک، جو HKIA کے محدود علاقے میں چلتا ہے، بین الاقوامی مسافروں کو ہانگ کانگ امیگریشن سے گزرے بغیر مین لینڈ کے بندرگاہوں تک پہنچنے کی سہولت دیتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام آسان ہے، لیکن ہر منزل کے لیے روزانہ چند ہی روانگیاں ہوتی ہیں، جس سے مرمت، عملے کی کمی یا موسم کی خرابی کی صورت میں کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ کاروباری مسافر جن کے ویزے وقت کی پابندی والے ہوں یا جو نازک نمونے لے کر سفر کر رہے ہوں، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نقل و حمل کا کہنا ہے کہ زمینی راستے سے سفر ممکن ہے، لیکن اس کے نقصانات بھی ہیں۔ ہانگ کانگ امیگریشن سے گزر کر ویسٹ کوولون ہائی اسپیڈ ریل یا کراس-بارڈر بسوں تک پہنچنے سے داخلے کا اسٹامپ لگتا ہے، کم از کم دو گھنٹے اضافی لگتے ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیری سروس کے ذریعے چیک کیے گئے سامان کا کنکشن ختم ہو جاتا ہے۔ مسافروں کو اپنے بیگ خود نکال کر کسٹمز سے گزرنا اور ریل اسٹیشن پر دوبارہ چیک کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ مین لینڈ ویزا کے بغیر پہنچتے ہیں، وہ اس متبادل کا استعمال نہیں کر سکتے۔
کیٹھی پیسیفک اور فیری آپریٹر چو کانگ پاسنجر ٹرانسپورٹ ری-بکنگ اور ریفنڈ کی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن رہائش یا چھوٹے ہوئے میٹنگز کے نقصان کی تلافی محدود ہے۔ اس لیے کارپوریٹ ٹریول مینیجرز کو چاہیے کہ وہ فیری آپریشن کی اطلاعات پر نظر رکھیں، گریٹر بے ایریا کے سفر میں زیادہ لمبے وقفے شامل کریں، اور عملے کو الیکٹرانک ویزا یا ملٹی انٹری پرمٹ رکھنے کی ہدایت دیں تاکہ سمندری رابطے ناکام ہونے پر زمینی راستے اختیار کیے جا سکیں۔
پالیسی کے نقطہ نظر سے، یہ واقعہ HKIA–گوانگژو کورڈور پر روانگیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کیونکہ گریٹر بے ایریا میں کاروباری روابط گہرے ہو رہے ہیں۔ صنعت کے ادارے طویل عرصے سے ہر گھنٹے روانگی اور ہائی اسپیڈ ریل کے ساتھ مربوط ٹکٹنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسافروں کو متبادل راستے میسر ہوں۔ تب تک، کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ سفر کی ہدایات میں ہنگامی منصوبہ بندی شامل کریں اور اپنے عملے کو SAR میں ہوائی، سمندری اور ریلوے کے درمیان خود مختار سفر کے طریقے سکھائیں۔
ماخذ: Reddit (r/CathayPacific)