
14 اکتوبر 2026 کو آسٹریلیا کی ہائی کورٹ نے مورٹن بمقابلہ وزیر برائے امیگریشن اینڈ سٹیزن شپ ([2026] HCA 38) میں ایک اہم فیصلہ سنایا، جس نے ریٹرن ریزیڈنٹ ویزا ہولڈرز کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا۔ درخواست گزار کو ریزیڈنٹ ریٹرن (کلاس BB) ویزا اس لیے مسترد کیا گیا تھا کیونکہ ایک نمائندے نے اسے کمیونٹی کے لیے ناقابل قبول خطرہ قرار دیا تھا۔ عدالت نے پایا کہ نمائندے نے سنگاپور میں درخواست گزار کی دوائیوں اور تھراپی تک رسائی کے اہم شواہد پر غور نہیں کیا، جو مائیگریشن ایکٹ کی دفعات 54 اور 55 کی خلاف ورزی اور عدالتی انصاف کی عدم فراہمی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خطرے کے اندازے کی منطق "غیر معقول یا بے بنیاد" تھی، اور ویزا فیصلوں کے لیے مضبوط شواہد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ کمپنی کے ملازمین اور طویل مدتی بیرون ملک مقیم افراد جو ریزیڈنٹ ریٹرن ویزا پر انحصار کرتے ہیں تاکہ آسٹریلیا میں مستقل رہائش برقرار رکھ سکیں، اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مکمل طبی اور فلاحی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے اور فیصلہ سازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان معلومات کو سنجیدگی سے لیں۔ مائیگریشن ایجنٹس کا کہنا ہے کہ صحت کی سہولیات تک رسائی کے معاملات پر میرٹ ریویو چیلنجز میں اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ ہوم افیئرز کو اب اپنے اندرونی رہنما اصولوں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ نمائندے انسانی ہمدردی کے عوامل کو وزارتی ہدایات کے مطابق یکساں طور پر پرکھ سکیں۔ اگرچہ یہ کیس ایک درخواست گزار سے متعلق ہے، اس کی منطق تمام ویزا ذیلی اقسام پر لاگو ہوتی ہے جہاں فیصلہ ساز کمیونٹی کی حفاظت اور فرد کی مشکلات کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں۔ عملی نصیحت: وہ آجر جو اپنے عملے کو بیرون ملک منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، انہیں میزبان ممالک میں دستیاب طبی سہولیات کے تفصیلی ریکارڈز رکھنا چاہئیں، کیونکہ یہ شواہد بعد میں ریزیڈنٹ ریٹرن ویزا کے سوال اٹھنے پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماخذ: High Court of Australia