
چین کے مشہور منصوبے '粤车南下' میں 25 جولائی کو ایک بڑا قدم اٹھایا گیا جب شینزین، فوشان، ڈونگ گوان، ہوئی ژو اور ژاؤ چنگ کے نجی گاڑی مالکان کو ہانگ کانگ-ژوہائی-مکاؤ پل کے ذریعے ہانگ کانگ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ اس توسیع سے ہانگ کانگ کے شہری علاقے میں روزانہ داخل ہونے والی گاڑیوں کی کوٹہ دوگنی ہو کر 200 ہو گئی ہے، جو گزشتہ دسمبر میں گوانگژو، ژوہائی، جیانگ مین اور ژونگ شان کے لیے کامیاب پائلٹ پروگرام کے بعد ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل مین لینڈ ڈرائیور آن لائن ہانگ کانگ کلوزڈ روڈ پرمٹ کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کراس بارڈر انشورنس خریدتے ہیں، پھر سفر کے وقت کا انتخاب کرتے ہیں۔ ژوہائی ہائی وے پورٹ پر حکام نے مخصوص انسپیکشن لینز بنائے ہیں؛ ژوہائی بارڈر انسپیکشن اسٹیشن کے مطابق، فی گاڑی اوسط پروسیسنگ وقت ایک منٹ سے کم ہے۔ کاروباری حضرات کے لیے یہ پالیسی ایگزیکٹو کی نقل و حرکت کو آسان بناتی ہے۔ گوانگڈونگ کے سینئر مینیجر اب خود اپنی گاڑی چلا کر ہانگ کانگ ہیڈکوارٹرز میں ایک ہی دن میں میٹنگز کر سکتے ہیں، جس سے مہنگی کراس بارڈر لیموزین سروسز پر انحصار کم ہو گا جو ایک دورے کے لیے 1,500 RMB تک لاگت آتی ہیں۔ ریٹیلرز کو بھی توقع ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات میں زیادہ خرچ کرنے والے مین لینڈ شاپرز کی تعداد بڑھے گی۔ یہ اقدام بیجنگ کی حکمت عملی کے مطابق ہے جو گریٹر بے ایریا کو 90 منٹ کے "ایک گھنٹے کے رہائشی دائرے" میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں 11 رکن شہروں کے درمیان لوگ، سرمایہ اور سامان آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر ٹریفک کے بہاؤ کے اعداد و شمار سے بھیڑ کم نظر آئے تو سال کے آخر تک گاڑیوں کی کوٹہ 500 روزانہ تک بڑھ سکتی ہے۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ ملازمین کو ہانگ کانگ کے دائیں ہاتھ کی ڈرائیونگ کے قوانین اور سخت شراب نوشی کی پابندیوں سے آگاہ کریں۔ مختصر ڈرائیور تربیتی سیشنز یا دو لسانی روڈ سائن گائیڈز فراہم کر کے حفاظت اور قوانین کی پابندی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماخذ: China News Service